اگر ایک بندہ ایک جگہ پہ ایک مہینہ رہنے کا ارادہ رکھتا ہے اور دس دن سے پہلے سفر کرتا ہے 44 کلومیٹر سے زیادہ تو اس کے روزے کے حوالے سے کیا حکم ہے۔ یعنی صبح سفر کرتا ہے اور شام تک اپنی جگہ پہ واپس آجاتاہے اس جگے پر ایک مہینے کےلیے جاب ہے اسکی تو اس کا حکم کیا ہے؟
ایک مہینے روکنے کے ارادے سے جتنا روزہ رکھا ہے وہ صحیح ہےاور سفر کے بعد اگر وہ سفر اسکا روٹین ہوجائے تو پہلے دو دن کا سفر سفر حصاب ہوگا یعنی روزہ قصر ہوگا تیسرے دن سے کثیر الحکم میں آجائے گا اور روزہ رکھے۔ لیکن اگر سفر کرنا روٹین نہ ہو بلکہ اتفاقی طور پر یہ سفر پیش آرہاہو تو اس صورت میں نماز اور روزہ دونوں قصر ہوجائے گا۔