بسم اللہ الرحمن الرحیم موضوع: طلاق اور تجدیدِ نکاح کے بارے میں شرعی رہنمائی السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته عرض یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت پہلے اہلِ سنت تھے۔ ان کے درمیان گھریلو اختلافات کی بنا پر شوہر نے بیوی کو طلاق دی۔ طلاق کی تفصیل درج ذیل ہے: شوہر نے بیوی کو اردو زبان میں طلاق دی (عربی صیغہ استعمال نہیں ہوا) تین طلاق ایک ہی وقت/مجلس میں دی گئیں طلاق کے وقت دو گواہ موجود تھے عورت حالتِ حیض میں نہیں تھی طلاق تحریری صورت میں دی گئی ایک بچی بھی ہے طلاق کے بعد تقریباً پانچ سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران دونوں ایک دوسرے سے الگ رہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ: مرد بیانیہ ہے سچ کیا ہے اللہ جانتا ہے کہ اب میں شیعہ ہوں اور عورت یعنی میں سائلہ شیعہ ہوں یعنی دونوں اب اہلِ تشیع (جعفری فقہ) اختیار کر چکے ہیں دونوں دوبارہ اکٹھے زندگی گزارنا چاہتے ہیں درخواست ہے کہ درج ذیل سوالات کے شرعی جواب عنایت فرمائیں: کیا مذکورہ طلاق جعفری فقہ کے مطابق واقع ہوئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا نکاح بدستور برقرار ہے؟ اگر طلاق واقع ہو چکی ہو تو کیا ان دونوں کے درمیان دوبارہ نکاح جائز ہے؟ کیا اس صورت میں حلالہ کی کوئی ضرورت ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ جعفریہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ والسلام عظمی اظہر بنت اظہر حسین بخاری فاضل پور سٹی ضلع راجن پور

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ جی طلاق درست ہے لیکن چونکہ دونوں میاں بیوی شیعہ ھو چکے ہیں اس لئے حلالہ کے بغیر نکاح کر سکتے ہیں۔ حرام ابدی نہیں ہے